Taawun

فاصلوں کو دور کرنے کا ایک ہی حل،آپس میں بات چیت کو بڑھائیں

Good-Conversation-Solve-Your-Problems

ایک عام سا لفظ جس کو آپ نے بارہا سناہوگا وہ ہے مکالمہ، گفتگو ،بات چیت۔ یہ سب ایک ہی مفہوم رکھتے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات نے اس معاملے میں جب تحقیق کی تو ان کو یہ معلوم ہوا ہے کہ ہمارے بہت سارےمعاملات کی خرابی کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہم بات نہیں کرتے، گفتگونہیں کرتے، مکالمہ نہیں کرتے۔

یہ کیسےہو سکتا ہے کہ کوئی معاملہ بات چیت کیے بغیر ہی اس کا مسئلہ حل ہو جائے لیکن خاص طور پر ہمارے اپنےمعاشرے کے اندرہمیں اکثر جگہوں پر بات چیت کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ مثلاًبڑوں کےساتھ بحث نہ کریں آپ کوئی بات کہتے ہیں تو آگے سے جواب ملے گابڑوں سے بحث نہیں کرتے، بڑوں سے اس طریقے سے بات نہیں کرتے ہیں۔

اوراگر کوئی ماتحت اپنے مینجر سے بات کرے تو مینجر بھی اسے یہی کہتا ہےکہ آپ کو منیجر سے بات کرنے کی تمیزنہیں ہے، آپ آگے سے بحث کیوں کر رہے ہیں؟ یہ کس نے آپ کو کہہ دیا کہ آپ مجھ سے بحث کریں، میں منیجر ہوں،میں بڑا ہوں ، میں سب جانتا ہوں، تم کوجو کہا گیا ہے وہ کرو۔

یہ ہماری زندگی کا ایک عام سا رویہ ہے۔ اگرآپ اس بات کو تھوڑا سا اور پھیلا لیں تو ہمارے ہاں آپس میں تعلقات ہیں۔وہ میاں بیوی کے ہوں،وہ بہن بھائی کے ہوں، وہ ماں بیٹے کے ہوں، وہ بیٹے اورباپ کے درمیان میں ہوں، یا کسی بھی سٹیج پر ہوں تو ہم جب بات چیت میں روک لگا دیتےہیں۔ تو اپنی بات کہہ نہیں سکتے اگلے کی بات سن نہیں سکتے پھروہ یکطرفہ ہی بات چیت چل رہی ہوتی ہے۔

 کسی صاحب نے آپ سے کوئی بات کی، ماں نے، باپ نے ،بھائی نے ،بڑے نے ،چھوٹے نے، کسی نے بات کی اورآپ نے کہا کہ اس بات کے اوپر گفتگو کی جانی چاہیے۔ اس کے اوپر مجھے بحث کرنی چاہیے لیکن آپ کو روک دیاجاتا ہے۔ بہت سارے مسائل کا حل بات چیت میں ہوتا ہے۔

مجھے ایک کورس کرنے کا اتفاق ہوا۔اس کورس میں ایک ڈیمونسٹریشن تھی انہوں نے ایک میاں بیوی کا کردار ایک لڑکے اور لڑکی نے کیا ۔ اور ان کو یہ کہا کہ آپ نے یہ ظاہر کرنا ہے کہ آپ کے درمیان معاملات میں خرابی ہے، آپ کےتعلقات بہترنہیں ہے، آپ کا روز لڑائی جھگڑا رہتا ہے۔ اور وہ صاحب بہت بڑے ماہرین نفسیات تھے، انگلینڈ سے آئے ہوئےتھے۔ جب میں نے سارا کا سارا وہ منظر دیکھاجو اس سلسلے کے اندر تھا۔ وہ ایک طرح سے ڈرامہ تھا وہ ہوتا رہاتو انہوں نےساری چیز کا نچوڑ یہ نکالا اوران سے پوچھا کہ کیا آپ نےاپنے مسائل پر کبھی آپس میں بات چیت کی ہے۔کسی نےبحث کی ہو آگے سے کوئی جواب آیا ہو۔کسی نےمعذرت کی ہو،کسی نے وضاحت دی ہو تو اگر آپ نے نہیں کی توپھر یہ معاملہ کبھی حل نہیں ہوگا۔

اس لیے ماہرین نفسیات یہ کہتے ہیں کہ آپ کو مکالمہ کرتے رہنا چاہیے، گفتگو کرتےرہنا چاہیے جہاں بھی موقع ملے۔جہاں بھی کوئی ایسی چیز آپ سمجھیں کہ آپ کا کوئی تعلق ہے بھلے وہ دوستوں کے درمیان بھی ہوتو بہت ساری چیزیں مکالمہ کرنے سے ، بات چیت کرنےسے حل ہو جاتی ہیں لیکن ہمارے ہاں اس کی اجازت نہیں دی جاتی۔

آپ یہ کرکے دیکھیے۔ اب آپ نے اپنے ماتحت سے کہا کہ آپ کو یہ آزادی ہے کہ آپ اپنی بات کر سکتے ہیں۔آپ یقین کریں معاملہ حل ہو سکتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ پوری ملکی سیاست کے اندر بھی جب بھی بات چیت ہوتی ہے تو کوئی نہ کوئی مسائل کا حل نکل آتا ہے کچھ دیناپڑتا ہے، کچھ لینا پڑتا ہے اورخودبخود مسئلے کا حل نکل آتا ہے۔

دنیا کے بہت بڑے مسائل کاحل بھی اسی چیز کے اندر ہے، کہ آپ بات چیت کریں تو آج کی اس چھوٹی سی گفتگو میں میں جو بات آپ سے کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے۔کہ جہاں بھی آپ کا تعلق ہے ،وہ گھر میں ہے ،باہر ہے ،کسی جگہ پہ ہے گفتگوکو روک نہ لگائیں، بات چیت پر پابندی نہ لگائیں۔بحث سننے اور کرنے کے اندر آپ برا محسوس نہ کریں۔ اگر بیٹا بھی،بچہ بھی آپ سے بحث کرتا ہے اور آپ سے بات چیت کرتا ہے اور کہتاہے کہ ڈیڈی مجھے اس پر بات کرنی ہے تو ہمیں کرنی چاہیے۔

آخر میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں۔ میرے ایک دوست مانچسٹر میں ہوتے ہیں۔ مجھے انہوں نے بتایاکہ انہوں نے اپنےگھروالوں سے کہا کہ ہمارے گھر میں مکمل جمہوریت ہو گی اور ہفتے میں ایک دن ہماری اسمبلی کا اجلاس ہوگا اور اس میں ہر آدمی کو بات کرنے کا پورا پوراموقع ملے گا۔ انہوں نے کہا ہم نے ہفتے والے دن ایک گھنٹہ رکھا کہ یہ ہماری اسمبلی کا اجلاس ہے اب اس میں کسی کو روکانہیں جائے گا بچے بھی بات کریں اور بڑے بھی۔

انہوں نے بتایا کہ میری دوچھوٹی چھوٹی بچیاں اور بیٹا تھا کوئی اس طرح کی فیملی تھی اور وہ سب دس سےبارہ سال کی عمر کے ہونگے۔ جب بات چیت شروع ہوئی تو میری بیٹی نے کہا کہ جی مجھے ماما پہ اعتراض ہے۔ہم نے پوچھا کہ کیااعتراض ہے؟ اس نے کہا جب ہم اپنی پسند کا پروگرام ٹی وی پر دیکھ رہی ہوتی ہیں ، ماما آتی ہیں ہم سےریموٹ پکڑتی ہیں اور وہ سٹیشن بدل دیتی ہیں۔ یہ ہمارا حق ہے کہ ہم جو دیکھ رہے ہیں ہم بھی اس گھر کے فرد ہیں تو اس کودیکھتےرہنا چاہیے۔ اور اگر انہوں نے کوئی چیز دیکھنی ہے تو یہ ہمیں کہیں کہ آپ یہ چیز بعد میں دیکھ لیں یا مجھے یہ چیزدیکھنی ہے یا میرے لیے ضروری ہے تو یہ بات ضروری کرنی چاہیے۔وہ کہتے ہیں کہ جب ہم نے یہ سنا تو ہمیں اچھا لگا کہ بچوں نےاپنے رائے دی ہے اوروہ ایک مکالمے کی شکل میں ہمارے سامنےرکھی۔

دوستوں لوگوں کو بات کرنے سے منع نہیں کرنا چاہیےبلکہ ان کا حوصلہ بڑھنا چاہیے۔ اور اگر آپ نے محسوس کیا کہ کسی کے ساتھ آپ کے اچھے تعلقات نہیں ہیں تو اس سے بات چیت کریں۔

انشاءاللہ العزیز بات چیت بہت سارے مسائل کا حل ہے۔ اللہ رب العزت ہمیں دین اور دنیا کی بھلائیاں عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

میں تو ایسا سوچتا ہوں

ڈاکٹرمحمد مشتاق مانگٹ

تعاون فاؤنڈیشن پاکستان

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *