Taawun

اپنی آخرت سنواریں، اللہ کی راہ میں خرچ کریں

بل گیٹ اور ایلن مسک جو کہ اس وقت دنیا کے امیر ترین آدمی ہیں، دونوں نے ایک بہت ہی خوب بات کہی ۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی کامیابی یہ نہیں ہے کہ جب آپ دنیا سےتشریف لے کر جائیں، جو کہ جانا ہی ہے،تو آپ کے اکاؤنٹس میں لاکھوں ،کروڑوں اور اربوں ڈالر پڑیں ہوں۔ یہ آپ کی کامیابی نہیں ہے۔ بلکہ کامیابی یہ ہے کہ آپ اپنی کمائی ہوئی دولت کو کس طرح انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے خرچ کرکے گئے ہیں۔

ہم میں سے بہت سارے لوگوں کا یہ خیال ہو سکتا ہے،سب کا نہیں ، کچھ لوگوں کا خیال ہو سکتا ہے ۔ انکی کامیابی یہ ہے کہ جب وہ اپنی زندگی کے آخری سالوں میں جائیں تو ان کے پاس کتنے پلاٹس ہوں، بینک بیلنس ہو اور کیاکیا کچھ ان کے پاس ہو؟ یقینی طور پر کچھ لوگ ایسا سوچتے ہیں لیکن یہ کامیابی نہیں ہے۔کامیابی یہ ہے کہ جتنا بھی آپ سے کمایا جا سکتا ہے آپ کمائیں لیکن جب آپ جائیں تو پھر آپ اپنےہاتھوں سے اسے تقسیم کر کےجائیں۔ اللہ کے کنبے کی خدمت اپنےہاتھوں سے کر کے جائیں اور ضرورتمندوں کی ضروریات پوری کر کے جائیں۔

میرے دوستوں یہ وارثین کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ آپ کے پیسے کو اللہ کی راہ کےاندر خرچ کریں، لوگوں کی بھلائی کے لیے خرچ کریں یہ ان کی ذمہ داری نہیں ہے۔ہماری شریعت تویہی کہتی ہے کہ بھائی جب ہم چھوڑیں گےتو ہم پر جو قرضہ ہے جو ذمہ داری ہے اس کو ادا کرنے کے بعد باقی مال ان کا ہے۔ اب یہ ان کی مرضی ہے کہ وہ اس کو کس انداز سے خرچ کرتے ہیں؟ یقیناً جب وہ مالک ہوں گے تو وہ خرچ کریں گے تو اس کافائدہ، ثواب بھی انہی کو ملناچاہیے۔ الا یہ کہ وہ یہ کہیں کہ اس کا ثواب ہمارے ان کو پہنچے جن کے ہم وارث ہیں۔

ایسا ممکن ہے، ایسا ہو بھی سکتا ہے۔ اس میں کوئی عجیب بات نہیں ہے لیکن کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ نے خود اپنے ہاتھ سے تو کچھ خرچ نہیں کیا اورآپ یہ توقع کرتے ہیں کہ کل کو جو آپ کی دولت کے مالک ہوں گے وہ آپ کے لیے خرچ کریں۔وہ یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ جب آپ نے خود نہیں دیا تو آپ ہم سے کیوں توقع کرتے ہیں کہ ہم آپ کے لیے یہ کام کریں۔ یقینی طور پر جب ہم سارے کام خود کرتےہیں تو ہمیں اپنا یہ کام بھی خودکرنا چاہیے کہ کمائیں جو کماسکتے ہیں، ضرورت کے مطابق اسے ذاتی استعمال میں بھی لائیں ، اللہ کی بتائی ہوئی حدود کے اندر رہ کر آپ خرچ بھی کر سکتے ہیں ،ضرورکیجیے۔

کمائیں جو آپ حلال طریقے سےان کے لیے کماسکتے ہیں لیکن چھوڑ کر جانا اور بہت بڑی جائیداد یعنی یہ کامیابی نہیں ہے۔ دنیا اس کوکامیابی نہیں کہتی۔ کامیابی یہی ہے کہ آپ نے کمایا اور آپ نےتقسیم کر دیا۔ اور اپنی آل اولادکے لیے اتنا چھوڑا ، جس کے اندر وہ اپنا ایک اچھا گزارہ کر سکتے ہیں۔

میری اس حوالے سے میرے ایک دوست سے بات ہوئی جن کا نام ڈاکٹر مقصود اختر ہے اوروہ یو کے میں ہوتے ہیں۔ انہوں نےکہا کہ اگر آپ نے اولاد کی اچھی تربیت کی اور ان کو کھانےکمانے کے قابل بنایا تو آپ تھوڑا بھی چھوڑیں گے تو وہ زیادہ بنا لیں گے لیکن اگر آپ نے ان میں شعور اور آگاہی پیدا نہ کی ،کوئی ان کے اندر کام کرنے کی طاقت اورہمت نہ ہوئی ،کوئی جذبہ نہ ہوا تواب آپ جو بھی چھوڑ جائیں گے تو اس سے بمشکل ہفتہ یا دس دن گزار لیں گے لیکن اس سے زیادہ نہیں گزاریں گے۔ شاید وہ بے حساب دولت جب ان کے ہاتھوں میں آئے گی اور اس کو خرچ کرنے کی صلاحیت نہیں ہوگی اس سےشاید ان کو نقصان ہو سکتا ہے،فائدہ نہیں ہو سکتا۔

اس لیے میرےدوستوں جو Bill Gates ، Musk نے کہا اورمیرے دوست نے کہا جوہم اردگرد سنتے ہیں۔ کمائیں اللہ کا شکر ہے حلال طریقے سے جتناکما سکتے ہیں اور اپنی آخرت کےلیے اپنے ہاتھوں سے خرچ کر کےجائیں بجائے اس کے کہ ہم یہ امیدرکھیں کہ ہمارے آنے والے جوہمارے وارث ہوں گے وہ ہمارے لیےخرچ کریں گے۔ ایسا ہو بھی سکتااور نہیں بھی ۔

آئیں اپنا کام خود کریں۔ جو بھی اللہ نےہمیں دیا ہے اپنی آل اولاد کےلیے مناسب چھوڑ کر باقی خود اپنے ہاتھوں سے اللہ کے ہاں دےکر جائیں۔ اللہ کی مخلوق کو دےکر جائیں، انشاءاللہ العزیز اس کابے حد فائدہ ہوگا ۔۔انشاءاللہ بہت بہت شکریہ

میں تو ایسا سوچتا ہوں

ڈاکٹر محمد مشتاق مانگٹ

تعاون فاؤنڈیشن پاکستان

Facebook Comments Box

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *