Taawun

کبھی سوچا! ذہنی تناؤ کہاں سے آتا ہے؟

بعض اوقات کسی شخص کی کوئی حرکت آپ کےلیے ذہنی تناؤ کا باعث بنتی ہے۔ اگر مجھے اس بات کا علم نہ ہو کہ کوئی بھی مسئلہ کہاں سے آرہا ہے تو میں اس کا حل کہیں اور سے ڈھونڈوں گا؟ لیکن اگر آپ کو اس جگہ کا پتہ نہیں چلتا کہ جہاں سے وہ مسئلہ آ رہاہے تو آپ اس مسئلہ کو حل نہیں کر سکتے۔

میری اور آپ کی زندگی میں کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ہم ذہنی تناؤ میں ہوتے ہیں، بے چینی محسوس کرتے ہیں خود کو بہت اکیلا اور بے بس محسوس کرتے ہیں۔ ہمارے ذہن پہ پریشر آتا ہے جس کی کوئی وجہ بھی ہوتی ہے۔

اب تناؤ آیا ہے،بےچینی آئی ہے، دباؤ آیا ہے یا کچھ بھی ایسا ہوا جس سے آپ کی دل کی دھڑکنیں تیز ہوتی ہے اور آپ نارمل سے ایبنارملٹی کی طرف چلے جاتے ہیں۔آپ کوئی بھی کام کرنے کے موڈ میں نہیں ہوتے۔ اس کا حل کیا ہے؟

بہت سے لوگوں نے اس کے مختلف حل بتائے۔ کچھ نے آرام کرنے کا مشورہ دیا، کسی نے سیر کرنے کے لیے کہا اور کسی نے کچھ کہا۔

ایک ماہر نفسیات نے کہا کہ

“Take notes of your emotions”

اس کا کہنا ہے کہ کوئی ایسی چیز ہے، کوئی ڈیٹا ہے جو آپ کےجذبات میں عدم توازن پیداکررہا ہے۔ یہ تھوڑی عجیب سی بات ہے۔لیکن جب میں نے اس کا مطلب پڑھا تو مجھے یہ سمجھ آئی کہ واقعی کوئی چیز ہے۔ مثلاً مجھے یہ معلومات آرہی ہے کہ میں امتحان میں فیل ہو رہا ہوں یا میری ملازمت جا رہی ہے تو یہ ڈیٹا ہے جس کی بنیاد پر میں ذہنی تناؤ لے رہا ہوں اور پریشانی کا بھی انتظار کر رہا ہوں۔اس کا ایک نیاتصور دیا گیا ہے کہ

“Take notes of your emotions”

کہ آپ جائزہ لیں کہ یہ ذہنی تناؤ کہاں سےآرہا ہے؟ مثال کہ طور پہ اگر کمرے میں آگ لگ جاتی ہے تو بجائے اس کے کہ میں اس پر پانی ڈالوں یا اس کو ختم کرنے کی کوشش کروں، میں اس کے لگنے کی وجہ ڈھونڈوں کہ یہ آگ لگی کیسے؟

میرا ان سب باتوں کو بتانے کا مقصدآگہی پھیلانا ہے۔یعنی یہ شعوردینا کہ جو پریشانی مجھے آ رہی ہے اس کی وجہ کو تلاش کیا جائے۔ مثلاً ایک شخص آپ کی پریشانی کا باعث بن رہا ہے تو اس پریشانی کے علاج کے لیے آپ سیرو تفریح کو چلے جائے گے، شاپنگ پہ چلے جائیں گے تو آپ کو یہ سب کرنے کی بجائے اس ذرائع کو ڈھونڈ کر اس کا علاج کرنا چاہیے۔اگلے مرحلے پر جانے کی بجائے پہلے مرحلے کو ترتیب دیں تاکہ آپ کی پریشانی کی وجہ ہی ختم ہو جائے۔بات اچھی لگے تو اسے آگے پہنچانے میں ہماری مدد کریں۔شکریہ!

میں تو ایسا سوچتا ہوں

ڈاکٹرمحمد مشتاق مانگٹ

تعاون فاؤنڈیشن پاکستان

Facebook Comments Box

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *