Taawun

مضبوط اعصاب: کامیابی کی ایک بنیادی شرط

دو لفظ جو ہم بارہا سنتے ہیں ، ایک ہے Mental Health اور دوسرا ہے Mental Strength۔ بظاہردونوں لفظ ایک جیسے ہی نظرآتے ہیں کہ کوئی آدمی ذہنی طور پرکتنا مضبوط ہے، اس کے أعصاب کتنے مضبوط ہیں اور دوسرا یہ کہ وہ ذہنی طور پر کتنا صحت مند ہے؟

آپ اس کی مثال اگر لینا چاہے تو آپ اس کی انسان کی جسمانی صحت اورجسمانی مضبوطی کے نام سے بھی لےسکتے ہیں۔اگر ہم اسی نقطۂ نظرسے اسے دیکھیں تو ہم یہ کہہ سکتےہیں کہ ذہنی صحت یہ ہے کہ کسی بھی انسان کاذہنی طور پر صحت مند ہونا ہے۔ اس کاسادہ سا مطلب یہ بنتا ہے کہ اس کوکوئی بھی ذہنی بیماری نہیں ہے،کوئی خرابی نہیں ہے،جیسے ڈپریشن، خوف وغیرہ۔ ۔ہم اسے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایسا شخص دماغی طور پر ایک صحت مند شخص ہے۔ اس آپ ا س فرد کی Mental health کہہ سکتے ہیں ۔

دوسری بات یہ ہے کہ کسی بھی شخص کی سوچنے سمجھنے اور اپنے جذبات کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت کس قدر ہے ۔ اسے ہم اس شخص کی Mental Strength کہہ سکتے ہیں یا کسی بھی شخص کی دماغی طاقت بھی کہہ سکتے ہیں یا عرف عام میں وہ کتنے مضبوط اعصاب کا مالک ہے۔

آج میں آپ کے سامنے یہ بات رکھنا چاہوں گا وہ ہے کہ Mental Strength کسے کہتے ہیں؟ اور ہمارا ذہن کام کیا کرتا ہے ؟بہت سارے کام ہو سکتے ہیں لیکن جو مضمون میں نے پڑھا اس کے مطابق ہمارا ذہن تین کام کرتا ہے۔

  1. سوچتا ہے
  2.  محسوس کرتاہے
  3. اور پھر وہ کام کرتا ہے

جب ہم مضبوط اعصاب کی بات کرتےہیں تو اس میں تین چیزیں ایسی ہیں جو اشارہ کرتی ہیں کہ کوئی شخص دماغی طور پر کتنا مضبوط ہے۔ یا وہ مشکل حالات میں اپنے أعصاب پر قابو پانے میں کتنا قابل ہے؟

پہلی یہ ہے کہ کسی شخص میں کتنی قابلیت ہے کہ کسی بھی مشکل حالات کے اندر وہ اپنی ایک رائے بناتا ہے،مشکل سے نکلنے کے لیے کوئی راہ نکالتا ہے۔خدانخواستہ کوئی آدمی آپ کے ہاں بہت ہی ایک خاص قسم کا ماحول پیدا کرتا ہے تو ایسی صورت میں آپ ذہنی طور پر اس ماحول کو کیسے کنٹرول کرتے ہیں اورکیسے اپنے معاملات کو اس ماحول کے اندر بہتر کرتے ہیں؟

اسی طرح سے اس کی دوسری قابلیت یہ ہے کہ وہ اپنےماحول کوکس طریقےسے سمجھتا ہے ؟

اور تیسری بات یہ ہے ہے کہ وہ اپنےجذبات کو ، احساسات کو اوراپنی سوچوں کو کتنا کنٹرول کرسکتاہے؟

یہ بنیادی طور پر تین چیزیں ہیں جس کو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ کسی بھی انسان کی ذہنی طورپر مضبوطی کی طرف اشارے ہیں۔ اس کے لیے ایک اور لفظ Emotionally Stable بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

میں نے اردگرد جب بھی دیکھا ہے کہ جب بھی کوئی مشکل صورتحال پیدا ہو وہ کاروبار میں ہو، سیاست میں ہو، گھر کے معاملات میں ہوں۔ ہر وہ شخص جس نے اپنےجذبات کو کنٹرول کیا ہوتا ہےاسی کی ہی جیت ہوتی ہے ۔ اور جو اپنےجذبات کوکنٹرول نہیں کر پاتا وہ کوئی ایسی بات کر بیٹھتاہے جو کہ خودبخود اس کے لیےنقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ وہ لڑائی جھگڑا بھی ہو سکتا ہے، وہ معمولی کسی بات پہ اشتعال بھی ہوسکتا ہے ۔

میرےدوستو!

کوشش یہ کریں ،کہ ایک توہم اپنی ذہنی صحت کی طرف توجہ دیں۔ خدانخواستہ ہمیں کوئی بیماری ہو تو اسی طریقے سے جیسے ہم اپنےجسم میں بھی بیماری کے لیے درد کی گولی لیتے ہیں یاکوئی اور چیزیں لیتے ہیں، اس کے لیےبھی کونسلنگ ہے، دوائیاں ہیں،سارا کچھ ہے۔ یہ ہمارا آج کاموضوع نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ اپنے آپ کو ذہنی طور پر مضبوط کریں۔یہ کیسے کیا جائے ؟ اس کے لیے آپ کا کسی ماہرنفسیات سے ملنا ہو گا۔

احادیث سے جو سبق ہمیں ملتا ہے، میرے خیال میں وہ سب سے ہم ہے۔ میرا یہ یقین ہے کہ اگر صرف اسی ایک بات پر ہم عمل کر لیں تو ہم اپنے آپ کو دماغی طور پر بے حد مضبوط کر سکتے ہیں، وہ ہے غصہ پر قابو پانا۔

غصہ پر قابو پانے کا آسان نسخہ جو ہمیں ہمارے نبی محترم صلی الله علیه وسلم نے بتایا ہے کہ غصہ کی حالت میں بیٹھ جانا چاہیے ۔ اس کے علاوہ بھی کئی ایسے کام ہیں جو مشکل حالات میں اپنے جذبات پر قابو پانے میں مدد کرتے ہیں۔

ڈاکٹرنعمان احمد صاحب نے اس پر ایک طویل مضمون لکھا ہے جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ درج ذیل سات کام کرنے سے آپکو کسی بھی حالت میں اپنے جذبات کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے ۔

آپ کواس کی تفصیل اس ویب سائٹ سے مل سکتی ہیں۔

https://www.wikihow.com/Control-Your-Anger-in-Islam

ان کی بتائے ہوئی باتوں کا خلاصہ کچھ یوں ہے

1. Seek refuge in Allah.

2. Keep silent.

3. Relax yourself

4. Understand what makes you angry

5. Know that those who control their anger are praised.

6. Realize the bad consequences of getting angry

7. Make dua

آخر میں صرف اتنی بات کہنا چاہتا ہوں کہ دنیا میں جیت اس شخص کی ہے جو دماغی طور پر مضبوط ہے، جس کے جذبات کنٹرول میں ہیں اور جس کو پتہ ہے کہ کن حالات کے اندر اس نے کیا بات کرنی ہے؟کیا کام کرنا ہے؟ کامیابی ایسے ہی لوگوں کے قدم چومتی ہے۔

آئیں مل جل کراپنے آپ کو Mentally Strong کریں۔ بہت بہت شکریہ

میں تو ایسا سوچتا ہوں

ڈاکٹر محمد مشتاق مانگٹ

Facebook Comments Box

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *